ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی : اپنے دوست  ابراہیم کے خلاف گائے چوری کا الزام نہ لگانے پر گنگولی پولیس نے مجھے جیل بھیجا ۔ فرانسیس المیڈا کا الزام

اڈپی : اپنے دوست  ابراہیم کے خلاف گائے چوری کا الزام نہ لگانے پر گنگولی پولیس نے مجھے جیل بھیجا ۔ فرانسیس المیڈا کا الزام

Tue, 01 Mar 2022 17:53:43    S.O. News Service

اڈپی،یکم مارچ (ایس او نیوز) گائے چوری کے الزام میں پولیس کے ذریعے گرفتار کیے گئے ابراہیم کے دوست فرانسیس ڈی المیڈا نے گنگولی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر ننجا نائک پر الزام لگایا ہے کہ ابراہیم کے خلاف گائے چوری کا جھوٹا الزام لگانے سے انکار کرنے پر ان پر ہی جھوٹا مقدمہ دائر کرکے انہیں جیل میں ڈال دیا۔

اڈپی میں میڈیا کے سامنے اپنا دکھڑا رکھتے ہوئے مویشی پالن اور الیکٹریشین کے پیشہ سے وابستہ فرانسیس نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دوست ابراہیم کو ایک گائے کا بچھڑا پالنے کے لئے مفت میں دیا تھا ۔ پولیس نے دو تین دن تک ابراہیم کے گھر پر بچھڑے کی موجودگی کی تحقیق کرنے کے بعد 26 دسمبر کی شام کے وقت مجھے اور ابراہیم کو پولیس اسٹیشن میں طلب کیا ۔ وہاں پر میں نے صاف طور پر بتایا کہ یہ بچھڑا میں نے اپنے دوست ابراہیم کو پالنے کے لئے مفت میں دیا ہے ۔ پھر رات 11 بجے پولیس ابراہیم کے گھر جا کر وہ بچھڑا گاڑی میں ڈال کر لے آئی ۔ مجھے رات 2 بجے گھر واپس جانے کے لئے چھوڑ دیا گیا ۔ 

فرانسیس نے بتایا کہ "دوسرے دن ابراہیم کو پولیس جیپ میں بٹھا کر منکی کراس کے پاس لے جایا گیا اور پھر جیپ سے اتار کر ان کی کنپٹی پر ریوالور تانتے ہوئے انہیں بھاگنے کے لئے کہا گیا ۔ اس طرح پولیس نے اینکاونٹر کی ایک نقلی کہانی گھڑنے کی تیاری کی تھی ۔ مگر ابراہیم نے بھاگنے سے انکار کردیا ۔ پھر پولیس نے مجھ سے پولیس اسٹیشن میں رکھے گئے بچھڑے کو منکی کراس تک لانے کے لئے کہا ۔ جب میں وہ بچھڑا لے کر وہاں پہنچا تو اس وقت بجرنگ دل کے کارکنان موجود تھے ۔ وہاں پر بچھڑے کے فوٹو لیتے ہوئے ایسے ظاہر کیا گیا جیسے ابراہیم نے وہ بچھڑا چوری کیا تھا ۔ پھر ابراہیم کو پولیس نے گرفتار کرلیا اور مجھے گھر جانے کے لئے چھوڑ دیا ۔"

فرانسیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے ایک مہینے بعد مجھے گنگولی پولیس اسٹیشن میں طلب کیا گیا اور اس کاغذ پر دستخط کرنے کے لئے کہا گیا جس پر لکھا تھا کہ میں نے ابراہیم  کو بچھڑا نہیں دیا اور مجھے پولیس اسٹیشن میں بلا کر بڑی دیر تک روک کر نہیں رکھا گیا تھا ۔ میں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا تو پولیس نے پھر بتایا کہ اگر دستخط کروگے تو صرف ابراہیم ملزم رہے گا اور تم محفوظ رہوگے ۔ میں پولیس کی یہ بات ماننے سے انکار کیا کیونکہ میں اپنے دوست کو چور ثابت کرنے کے لئے جھوٹا الزام نہیں لگانا چاہتا تھا ۔

فرانسیس نے بتایا کہ جب اس نے پولیس کی بات ماننے سے انکار کیا تو اسے بھی ملزم بناتے ہوئے 18 فروری کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ اب جیل سے 21 فروری کو ضمانت پر رہا ہونے کے بعد فرانسیس نے یہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے اس معاملہ میں اس کو بہت زیادہ ہراساں کیا ہے اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے اس لئے وہ عدالت میں پولیس کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ داخل کرے گا تاکہ خاطی پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو۔


Share: